انسانیت کی تکریم: اسلامی تعلیمات اور عالمی منشورِ حقوق کا علمی و تحقیقی مطالعہ
تخلیق ● تکریم ● مساوات ● حقوق ● خطبہ حجۃ الوداع ● خطبہ فتح مکہ
اسلامی تعلیمات ● انسانی حقوق ● علمی مطالعہ✦ فہرست مضامین
تخلیق میں امتیاز
اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تمام مخلوقات میں انسان کو ایک منفرد اور ممتاز مقام عطا کیا ہے، جسے اسلامی اصطلاح میں “اشرف المخلوقات” کہا جاتا ہے ۔ یہ فضیلت محض اتفاقی نہیں بلکہ تخلیق کے اس عمل کا نتیجہ ہے جس میں باری تعالیٰ نے براہِ راست مداخلت فرمائی۔ قرآن کریم اس حوالے سے ابلیس کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے اس اختصاص کو یوں واضح کرتا ہے:
قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ
ترجمہ: “اے ابلیس! تجھے کس چیز نے اس کو سجدہ کرنے سے روکا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا” ۔
یہ آیت اس بات کی شاہد ہے کہ انسانی وجود کی تخلیق میں ربانی عنایت کا خاص پہلو شامل ہے، جو اسے دیگر مادی و مجرد مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔
شاہکارِ فطرت
انسانی جسم اور اس کی ساخت کائنات کا سب سے بڑا معجزہ اور شاہکار ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نہ صرف ظاہری طور پر خوبصورت بنایا بلکہ اسے بہترین تناسب اور توازن عطا کیا۔ سورہ التین میں اس حقیقت کی تصدیق فرمائی گئی ہے:
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ
ترجمہ: “البتہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے” ۔
یہ “احسنِ تقویم” صرف جسمانی خوبصورتی تک محدود نہیں بلکہ اس میں انسان کی ذہنی، روحانی اور اخلاقی صلاحیتیں بھی شامل ہیں جو اسے ارتقائی منازل طے کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ تاریخی اعتبار سے یہ نظریہ یونانی فلسفے اور مادہ پرستانہ نظریات کے برعکس انسان کی قدروقیمت کو اس کے خالق سے جوڑتا ہے۔
فوقیتِ علمی
انسان کو دیگر مخلوقات، حتیٰ کہ فرشتوں پر جو برتری حاصل ہوئی، اس کی بنیاد “علم” ہے ۔ جب تخلیقِ آدم کا مرحلہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو کائنات کی اشیاء کی حقیقتوں سے آگاہ فرمایا۔
وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا
ترجمہ: “اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے” ۔
یہ علمی فوقیت ہی تھی جس نے انسان کو زمین پر اللہ کا خلیفہ بننے کا حقدار ٹھہرایا۔ عصری تناظر میں یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں تعلیم اور تحقیق کسی ایک طبقے کی میراث نہیں بلکہ انسانیت کا بنیادی حق اور اس کی فضیلت کی اساس ہے۔
سجودِ ملائکہ
تخلیقِ انسانی کی عظمت کا آخری اور سب سے بڑا اعتراف اس وقت ہوا جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں جیسی نوری مخلوق کو آدم کے سامنے سرنگوں ہونے کا حکم دیا ۔
فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ
ترجمہ: “پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جھک جاؤ تو سب جھک گئے” ۔
یہ سجدہِ تعظیمی اس امر کی علامت تھا کہ کائنات کی نوری اور ناری قوتیں اب انسان کی خدمت اور اس کے تابع کر دی گئی ہیں، بشرطیکہ وہ اپنے منصبِ خلافت کو پہچان لے۔
انعاماتِ ربانیہ کا اولین مستحق
اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے انعامات کا سب سے بڑا مرکز انسان ہے ۔ ہدایتِ الہیہ کی صورت میں انبیاء اور کتابوں کا نزول صرف انسان ہی کے لیے ہوا ۔ اسلام میں ہر چھوٹے بڑے نیک عمل پر انعامات کا وعدہ کیا گیا ہے، خواہ وہ نماز ہو یا روزہ، زکوٰۃ ہو یا حج ۔ یہ انعامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ خالقِ کائنات اپنے بندے کی ہر مخلصانہ کوشش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ
ترجمہ: “اور البتہ ہم نے تمھیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا” ۔
یہ ارضی تمکین انسان کو ذمہ دار بناتی ہے کہ وہ اپنے اختیارات کو عدل و انصاف کے ساتھ استعمال کرے، جو کہ جدید جمہوری اور انتظامی ڈھانچوں کے لیے ایک بنیادی رہنما اصول ہے۔
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ
ترجمہ: “اور ہم نے اولادِ آدم کو عزت عطا کی” ۔
یہ اعزاز کسی خاص گروہ کے لیے نہیں بلکہ “بنی آدم” کے لیے ہے، جو انسانی جان کی حرمت اور احترام کو ہر چیز پر مقدم کرتا ہے ۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ
ترجمہ: “اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمہارے طبقات اور قبیلے بنا دیے تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم سب میں عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہو” ۔
یہ آیت نسلی تفاخر اور طبقاتی کشمکش کا جڑ سے خاتمہ کر دیتی ہے اور معاشرے میں حقیقی مساوات قائم کرتی ہے ۔
انسانی حقوق
انسانی حقوق سے مراد وہ آزادیاں اور مراعات ہیں جو کسی بھی قسم کے تعصب کے بغیر ہر انسان کو پیدائشی طور پر حاصل ہوں ۔ چونکہ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے، اس لیے اجتماعی زندگی میں دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا ناگزیر ہے ۔ اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت حقوق اللہ سے کسی طور کم نہیں ہے، کیونکہ یہ ارادہِ الہی کا اظہار ہے ۔
إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً
ترجمہ: “اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں” ۔
یہ خلافت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ انسان زمین پر فساد کے بجائے امن اور حقوق کی پاسداری کو یقینی بنائے۔
اسلام نے چودہ سو سال پہلے وہ حقوق عطا کیے جن کے لیے دنیا آج بھی تگ و دو کر رہی ہے ۔ ان میں پہلا بنیادی حق “تکریمِ انسانیت” ہے ۔ اس کے علاوہ “آزادی” ہر انسان کا پیدائشی حق ہے ۔ حضرت عمر فاروق ؓ کا یہ تاریخی قول اس حوالے سے سند کی حیثیت رکھتا ہے:
“تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد پیدا کیا ہے” ۔
یہ قول انسانی غلامی کے خلاف ایک ایسی چارج شیٹ ہے جو آج کے دور میں بھی جبری مشقت اور غلامی کی ہر شکل کو مسترد کرتی ہے ۔
“قریش کے لوگو! خدا نے تمہاری جھوٹی نخوت (تکبر) کو ختم کر ڈالا اور باپ دادا کے کارناموں پر تمہارے فخر و مباہات کی کوئی گنجائش نہیں” ۔
اسی طرح زندگی کا حق، مال کا حق اور عزت کا تحفظ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے پر حرام کر دیا گیا ۔ آپ ﷺ نے بیویوں کے حقوق کی پاسداری اور خادموں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید فرمائی ۔
معاشی استحصال کے خاتمے کے لیے سود کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا اور وراثت و ملکیت کے حقوق کو قانونی شکل دی گئی ۔
قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ
ترجمہ: “آپ فرمادیں کہ میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے” ۔
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ
ترجمہ: “دین میں کوئی جبر نہیں” ۔
بنیادی حقوق اور اسلام: ایک جامع اور آفاقی مطالعہ
اسلام میں انسانی حقوق کا تصور کسی دنیاوی منشور یا مادی فلسفے کا مرہونِ منت نہیں بلکہ یہ براہِ راست خالقِ کائنات کی طرف سے عطا کردہ اعزاز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے “ولقد کرمنا بنی آدم” کے ذریعے نسلِ انسانی کو جو وقار بخشا ہے، وہ رنگ، نسل اور جغرافیائی حدود سے ماورا ہے۔ تکریمِ انسانیت کا یہ اصول تقاضا کرتا ہے کہ ہر انسان کو محض اس کے انسان ہونے کی ناطے وہ تمام بنیادی مراعات حاصل ہوں جو اس کی نشوونما اور وقار کے لیے ضروری ہیں۔
آزادی
آزادی انسان کا وہ پیدائشی اور فطری حق ہے جسے اسلام نے تقدس عطا کیا ہے۔ کسی بھی انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے انسان کو اپنی بندگی یا جبری مشقت پر مجبور کرے۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ جب فاتحین نے زمین پر غلبہ حاصل کیا تو انہوں نے محکوموں کو مادی غلامی سے نکال کر خدا کی بندگی میں دے کر انہیں حقیقی آزادی سے روشناس کرایا۔ حضرت عمر فاروق ؓ کا وہ تاریخی قول “تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد پیدا کیا ہے” دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ آزادیِ فرد کے بغیر کوئی بھی معاشرہ انسانی کہلانے کا حقدار نہیں ہے۔
خطبہ حجۃ الوداع سے ماخوذ حقوق
رسول اللہ ﷺ کا آخری خطبہ انسانی حقوق کا وہ ابدی منشور ہے جس نے جاہلیت کے تمام امتیازی قوانین کو پاؤں تلے روند کر انسانیت کو ایک لڑی میں پرو دیا۔
اس اعلان نے صدیوں پرانی طبقاتی تقسیم کو ختم کر کے ایک ایسے عالمی بھائی چارے کی بنیاد رکھی جہاں حسب و نسب کی بنیاد پر نہیں بلکہ کردار کی بنیاد پر انسان کی قدر کی جاتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا “تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے، جو کہ انسانی برابری کی آخری حد ہے۔”
یہ ایک ایسا جامع تحفظ ہے جو جدید قانونِ سازی میں بھی اسی جامعیت کے ساتھ نہیں ملتا، جہاں انسان کی جان کے ساتھ اس کی عزتِ نفس اور نجی ملکیت کو بھی مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ
ترجمہ: “تاکہ یہ (مال) تمہارے دولت مندوں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے” ۔
حقوق اور خطبہ فتح مکہ: انسانی وقار کی بحالی کا تاریخی اعلامیہ
✦ انسانیت کی تکریم: ایک جامع نظر ✦
اسلام نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا، علمی فوقیت عطا کی، تکریم و مساوات کا اعلان کیا اور خطبہ حجۃ الوداع و فتح مکہ کے ذریعے انسانی حقوق کا پہلا جامع منشور پیش کیا جو آج بھی عالمی برادری کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
Notes for Competitive (CSS/PMS) exams are given below
Proudly Powered By

Leave a Comment