چونبھڑاں: ارشد میر کا تعارف اور فنی تجزیہ
ارشد میر پنجابی ادب کے وہ ماہر لکھاری ہیں جنہوں نے اپنی تحریروں میں طنز و مزاح کے ذریعے معاشرتی برائیوں اور انسانی رویوں کی ایسی جراحی کی ہے کہ قاری ہنسنے کے ساتھ ساتھ سوچنے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے۔ ان کی کتاب “چونبھڑاں” پنجابی انشائیہ نگاری میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔
مصنف کا تعارف
ارشد میر کا تعلق لاہور سے تھا۔ وہ 13 جون 1931ء کو پیدا ہوئے اور 1991ء میں وفات پائی۔ ان کی تحریروں کی خاصیت یہ ہے کہ انہوں نے اردو اور پنجابی، دونوں زبانوں میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ارشد میر نے اپنی تحریروں میں پنجابی ثقافت کو سنبھالنے کا درس دیا ہے اور غیر ملکی ثقافت کی اندھی تقلید سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ ان کا طنز و مزاح بہت گہرا اور مقصدیت سے بھرپور ہوتا ہے۔
تصویر نمبر 1 – ارشد میر: شخصیت اور ادبی فضا
کتاب کا تعارف: چونبھڑاں
“چونبھڑاں” ارشد میر کے مزاحیہ اور طنزیہ انشائیوں کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا عنوان ہی اس کی روح کو واضح کرتا ہے۔
معنی: لفظ “چونبھڑاں” واحد “چونبھڑ” سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے “سوئی کی نوک”۔ جس طرح سوئی کی نوک چبھوتی ہے، بالکل اسی طرح ارشد میر کے طنز کی نوک معاشرتی کجیوں کو چبھوتی ہے تاکہ اصلاح ہو سکے۔
بناوٹ: یہ کتاب 192 صفحات پر مشتمل ہے جس میں کل 14 مضامین شامل ہیں۔ ان مضامین میں مصنف نے روزمرہ زندگی کے عام موضوعات کو ایک انوکھے اور دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے۔
مضامین کے عنوانات (اصل پنجابی میں)
ارشد میر نے معاشرے کے مختلف طبقوں، رسم و رواج اور انسانی عادات کو اپنے نشانے پر رکھا ہے۔ کتاب میں شامل مضامین کی فہرست درج ذیل ہے:
- 1. دیباچہ: کتاب کا ابتدائی تعارف۔
- 2. آڈھو گوانڈھ: پڑوس کے ماحول اور سماجی تعلقات کی عکاسی۔
- 3. پینڈو نائی: گاؤں کے نائی کا کردار اور اس کی سماجی اہمیت۔
- 4. چاچا نورا: ایک روایتی اور دلچسپ کردار کی تصویر کشی۔
- 5. چٹی چیرا: لباس اور ظاہری ٹھاٹھ باٹھ پر طنز۔
- 6. تقریر دا فن: سیاسی اور سماجی تقریبات میں تقریروں کی حقیقت۔
- 7. مجھاں: پنجاب کے دیہاتی زندگی میں بھینسوں کی اہمیت اور ان سے جڑے قصے۔
- 8. پگ: عزت اور غیرت کی علامت “پگ” کے بدلتے ہوئے معنی۔
- 9. رلے دار دا رولا: سماجی میل جول کے جھگڑے اور پریشانیاں۔
- 10. جیماں جگتی: جگت بازی اور پنجابی مزاح کا رنگ۔
- 11. حقہ پرہیا دا پردھان: گاؤں کی پنچائت اور حقے کی اہمیت۔
- 12. بس دا سفر: عوامی سواری کے سفر میں پیش آنے والے دلچسپ اور تکلیف دہ واقعات۔
- 13. پروہنے: ہمارے معاشرے میں مہمان نوازی اور مہمانوں کے مختلف روپ۔
- 14. بھجے دی جنج: شادی بیاہ کے ہنگامے اور بے جا رسم و رواج۔
فنی اور فکری خوبیاں
ارشد میر کی “چونبھڑاں” کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ صرف ہنسانے تک محدود نہیں رہتے بلکہ معاشرے کے مکے ہوئے ناسوروں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ ان کی تحریر میں یہ خوبیاں نمایاں ہیں:
- • طنز و مزاح کا امتزاج: ان کے طنز میں تلخی نہیں بلکہ ایک مٹھاس ہے جو اصلاح کا پہلو لیے ہوتی ہے۔
- • ثقافتی پہچان: انہوں نے پگ، حقہ، بھینسیں اور دیہاتی نائی جیسے موضوعات چن کر پنجابی ثقافت کی بھرپور ترجمانی کی ہے۔
- • سادہ اور رواں زبان: ارشد میر نے عام فہم ٹکسالی پنجابی زبان استعمال کی ہے، جس سے ہر قاری جڑ جاتا ہے۔
- • کردار نگاری: ان کے کردار (جیسے چاچا نورا یا جیماں جگتی) ہمارے آس پاس کے جیتے جاگتے کردار لگتے ہیں۔
تصویر نمبر 2 – پنجابی ثقافت کی عکاسی (پگ، حقہ، بھینسیں)
زبان اور بیان
ارشد میر کی نثری مہارت کا سب سے بڑا ثبوت ان کی لسانی بصیرت ہے۔ ان کی تحریر میں لاہور اور شیخوپورہ کی اس ٹکسالی زبان کی جھلک ملتی ہے جو پنجاب کے تہذیبی مراکز کی روح ہے۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں “بہت دیسی پنجابی” کو ترجیح دی ہے اور اردو یا انگریزی جیسی دوسری زبانوں کے الفاظ سے جتنا ہو سکے پرہیز کیا ہے، جس سے پنجابی کی اپنی اصلیت اور مٹھاس برقرار رہتی ہے۔ ارشد میر کی لغت محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک شعوری انتخاب ہے۔ وہ الفاظ کو بڑی سوچ سمجھ کر اعلیٰ ترتیب سے جملوں میں پروتے ہیں، جیسے کوئی ماہر کاریگر نگینے جڑتا ہے۔ ان کی شوخی تحریر کے پیچھے ایک “گہرا مشاہدہ” چھپا ہوتا ہے، جو قاری کو معاشرے کے ان پہلوؤں کی طرف متوجہ کرتا ہے جنہیں عام آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا بیان سادہ ہونے کے باوجود فنی اعتبار سے بہت بلند درجے کا حامل ہے۔
مضمون یا انشائیہ
ارشد میر کی تحریریں صنف کے اعتبار سے ایک الگ نوعیت رکھتی ہیں، جنہیں نہ تو خالص روایتی مضمون کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی پوری طرح انشائیہ۔ ان میں مزاح کی ایک گہری لہر شروع سے آخر تک جاری رہتی ہے۔ جب ان کی تحریر میں طوالت آ جاتی ہے اور وہ مضمون کی شکل اختیار کر لیتی ہے، تو موضوع کی رنگینی اسے انشائیے کے قریب رکھتی ہے۔ ارشد میر کے فن کا کمال یہ ہے کہ وہ کسی “معمولی موضوع” کو پکڑتے ہیں اور اپنی خلاقیت سے اسے کئی صفحات تک پھیلا دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مشکل فن ہے جس میں ذرا سی غلطی تحریر کو بیزار کن بنا سکتی ہے، لیکن ارشد میر اپنی گرفت ڈھیلی نہیں ہونے دیتے اور معمولی چیز میں سے بھی معنی خیز نکات نکالنے کی پوری قدرت رکھتے ہیں۔
بے ساختگی اور شگفتگی
ارشد میر کی تحریر کی جان ان کی “بے ساختگی اور شگفتگی” ہے۔ ان کی خوش مزاج طبیعت ان کے قلم سے ٹپکتی ہے، جس سے جملوں میں ایک قدرتی روانی پیدا ہوتی ہے۔ ان کے جملے مزاح سے اس قدر بھرپور ہوتے ہیں کہ قاری ایک بار پڑھنا شروع کرے تو گھنٹوں تک لطف اندوز ہوتا رہتا ہے۔ یہ بے ساختگی ان کی تحریر کے ہر حصے میں پوری طرح قائم نظر آتی ہے۔ وہ صرف ہنستے ہی نہیں بلکہ طنز کے تیر بھی چلاتے ہیں، مگر یہ طنز زہریلا ہونے کے بجائے اصلاحی اور شگفتہ ہوتا ہے۔ جیسے “چٹی چیرا” یا “پگ” جیسے لفظوں کے استعمال سے وہ سماجی رویوں اور ظاہری ٹھاٹھ باٹھ پر بڑی خوبصورتی سے چوٹ کرتے ہیں۔ یہی شگفتہ بیانی ارشد میر کو پنجابی نثر نگاری میں ایک انفرادی اور معتبر مقام عطا کرتی ہے۔
دیہاتی تہذیب کی جھلک
ارشد میر کی فنکاری کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ ان کی تحریروں میں شہر اور گاؤں، دونوں رنگوں کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ان کے مجموعے میں جہاں شہری زندگی کے تضادات ملتے ہیں، وہیں خالص دیہاتی زندگی کی خوشبو بھی آتی ہے۔ ارشد میر نے پنجاب کی صدیوں پرانی “دیہاتی قدروں اور روایات” کو بڑی اپنائیت سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے “پگ” اور “حقہ” جیسی ثقافتی علامتوں کو صرف اشیاء کے طور پر نہیں استعمال کیا بلکہ انہیں پنجاب کی غیرت اور سماجی شراکت کے استعارے بنایا ہے۔ خاص طور پر “پگ” کے موضوع پر ان کی مہارت دیدنی ہے، جہاں وہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں بدلتے ہوئے پگ کے انداز اور اس کی اقسام کو بڑی تفصیل سے گنواتے ہیں، جو ان کے گہرے ثقافتی مشاہدے کا ثبوت ہے۔
قسماں نیں جیہناں وچوں جنگلی تے جانگلی پگ،
گھٹویں تے لھیٹویں پگ، کنڈی تے لٹڈی پگ،
چیرا تے سہاگ پگ، لڑاں والی تے دو لڑی پگ،
کھرل تے بہرل پگ، ڈنگی تے آڈی پگ،
گول تے پدھری پگ، ہبی تے چبی پگ،
پیچویں تے برتاویں پگ،
ڈنگر چور تے پاسپورٹ پگ وغیرہ۔۔۔۔”
یہ اقتباس ارشد میر کی اس قابلیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایک چھوٹی سی ثقافتی نشانی میں سے کتنے رنگ کشید کر سکتے ہیں۔ یہ تفصیل محض ایک فہرست نہیں بلکہ پنجاب کی جغرافیائی اور سماجی تقسیم کی ایک مکمل نقشہ نگاری ہے۔
حقیقت نگاری
ارشد میر کی تحریر کی بنیاد “حقیقت نگاری” ہے۔ وہ تخیلاتی دنیا میں رہنے کے بجائے اپنے آس پاس کی جیتی جاگتی زندگی سے مواد لیتے ہیں۔ انہوں نے معاشرے کے “تلخ حقائق” کو آنکھوں دیکھا اور پھر انہیں بغیر کسی ملمع سازی کے “حقیقی رنگ” میں پیش کر دیا۔ ارشد میر کی خوبی یہ ہے کہ وہ زندگی کے مسائل کو بیان کرتے وقت مصلحت سے کام نہیں لیتے۔ ان کا بیان بے باک ہے، مگر یہ بے باکی کسی کی دل آزاری کے لیے نہیں بلکہ اصلاح کے لیے ہے۔ وہ انسانی رویوں کی کجی اور سماجی ناانصافیوں کو طنز کے پیرائے میں سامنے لاتے ہیں، تاکہ پڑھنے والا ہنسنے کے ساتھ ساتھ اپنے گریبان میں جھانکنے پر بھی مجبور ہو جائے۔ یہ حقیقت نگاری ہی ان کی تحریر کو ہر دور کے قاری کے لیے اہم بناتی ہے۔
تہذیب کی تباہی کا نوحہ
ارشد میر کی تحریر محض قہقہے نہیں بلکہ یہ ایک مٹتی ہوئی تہذیب کا ماتم بھی ہے۔ انہوں نے بڑی شدت سے اس بات کا احساس دلایا ہے کہ ہماری “ہزاروں سال پرانی تہذیب” اپنی جڑوں سے کٹ رہی ہے۔ ان کے نزدیک یہ تبدیلی محض وقت کا گزرنا نہیں بلکہ ایک تہذیبی خودکشی ہے۔ “پگ” جو کبھی غیرت اور شرافت کی علامت تھی، اور “پروہنے” (مہمان) جن کی آؤ بھگت پنجاب کا خاصہ تھی، آج کے مادہ پرست دور میں اپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔ ارشد میر اس تبدیلی کو ایک المیے کے طور پر پیش کرتے ہیں:
جیڑا ہن چنگی بھلی زحمت بن گیا اے۔”
یہ جملہ ہمارے بدلتے ہوئے سماجی رویوں پر ایک بھرپور چوٹ ہے، جہاں خلوص کی جگہ تکلف اور مصلحت نے لے لی ہے۔
سماجی برائیوں کی طرف توجہ
ارشد میر کا قلم معاشرے کے نچلے طبقے کا وکیل بن کر سامنے آتا ہے۔ انہوں نے “استحصال، ناانصافی اور رشوت” جیسے ناسوروں کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی ہے، کیونکہ ان برائیوں کی سب سے زیادہ مار غریب اور عام آدمی پر پڑتی ہے۔ ان کی تحریر میں یہ درد صاف نظر آتا ہے کہ کس طرح ایک عام انسان نظام کی پیچیدگیوں میں پس کر رہ جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے انشائیوں جیسے “دیباچے”، “بھجے دی جنج”، “آڈھو گوانڈھ” اور “چٹی چیرا” میں ان تضادات کو بڑی فنکاری سے اجاگر کیا ہے:
بڑے کمال تے نادر پکھنڈ رچا کے
چٹی نوں پاک صاف کر کے اڈول ای چٹ کر لیندے نیں۔”
ارشد میر کا یہ طنز اس کرپٹ نظام پر ہے جہاں لوگ دوسروں کا حق مارنے کو بھی ایک فن سمجھتے ہیں۔ ان کی تحریر کا مقصد صرف برائی دکھانا نہیں بلکہ قاری کے اندر اس ناانصافی کے خلاف ایک شعور پیدا کرنا ہے۔
تصویر نمبر 3 – سماجی برائیاں اور طنز کی نوک (چونبھڑ)
غیر ضروری طوالت اور اکھانوں کا استعمال: ارشد میر کے فن کے فنی پہلو
ارشد میر کے اسلوب میں کچھ ایسی خوبیاں ہیں جو انہیں اپنے ہم عصر لکھاریوں سے منفرد بناتی ہیں۔ ان کی تحریر میں طوالت اور ضرب الامثال (اکھانوں) کے استعمال کا تحقیقی جائزہ ذیل میں دیا گیا ہے:
وی باقاعدہ نیلامی ہوندی اے تے جیہڑا جوکھی بولی
دے اوہنوں چانس ملدا اے تے اوہ وڈھی والی رقم
دا کیہڑا بھار سمجھدا اے، پپلک دے جھوٹے لاہ
کے دناں وچ رقم پوری ہو جاندی اے۔”
ارشد میر کا یہ طنزیہ اقتباس ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی کرپشن اور سفارش کلچر کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ وہ یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کس طرح عوامی عہدوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور پھر وہی افسر عوام کا خون چوس کر اپنی رشوت کی رقم پوری کرتے ہیں۔ یہ جرات مندانہ بیان ارشد میر کی حقیقت نگاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
غیر ضروری طوالت
ارشد میر کی تحریروں میں طوالت کا عنصر نمایاں ہے، مگر یہ طوالت قاری پر “گراں” (بوجھ) نہیں گزرتی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی تحریر میں چھپا ہوا “مزاح کا عنصر” ہے۔ ان کے لمبے انشائیے جیسے “پروہنے”، “پگ”، “حقہ” اور “چٹی چیرا” اپنی وسعت کے باوجود قاری کی دلچسپی کو برقرار رکھتے ہیں۔ فنی اعتبار سے ارشد میر کی اس طوالت کو ایک “خوبی” مانا جاتا ہے، کیونکہ وہ کسی بھی موضوع کی اتنی تفصیل بیان کرتے ہیں کہ قاری کے سامنے اس موضوع کے تمام پوشیدہ پہلو عیاں ہو جاتے ہیں۔ ان کی طوالت بیزاری پیدا کرنے کے بجائے معلومات اور تفریح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
اکھانوں کا استعمال (اصل پنجابی میں)
ارشد میر کی نثری مہارت کا ایک بڑا ثبوت ان کی طرف سے “اکھانوں” (Proverbs) کا استعمال ہے۔ اکھان دراصل “حکمت کا خزانہ” ہوتے ہیں جو بڑی سے بڑی بات کو تھوڑے سے لفظوں میں سمیٹ دیتے ہیں، جیسے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا جائے۔ ارشد میر نے اپنی تحریروں میں موقع بموقع پنجابی اکھانوں کو اتنے فطری انداز میں استعمال کیا ہے کہ تحریر کی تاثیر کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں (اصل پنجابی میں):
- • اسپغول تے کجھ نہ پھول: اس اکھان کو انہوں نے تپاک اور خاموشی کے موقع پر استعمال کیا ہے۔
- • کم دانہ کاج دا، ویری اناج دا: یہ اکھان نکمے اور کاہل انسان کے لیے استعمال ہوئی ہے۔
- • ہتھے پگ نیں تے پت نہیں: پگ کی اہمیت اور عزت کے حوالے سے ایک معنی خیز اکھان۔
- • اتوں سرے جولاہے وچوں نم دے گولے: بظاہر کچھ اور باطن میں کچھ (منافقت) کی بہترین عکاسی کرنے والا اکھان۔

